زندگی امتحان لیتی ہے۔ محرومی، حق تلفی اور ناانصافی جیسی معاشرتی ناہمواری انسان کے لئے ایک اذیت ناک کڑی آزمائش ہے جس میں کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جس کا عقیدہ راسخ، نیت شفاف اور عزم غیر متزلزل ہوتا ہے۔ وقت کے ایک بے رحم، سفاک کروٹ نے اس کے جیون میں زہر گھول دیا تھا۔ ناکردہ جرم کی پاداش میں اس کا لڑکپن اور جوانی قید و بند کی صعوبتوں کی نذر ہوگئی تھی۔ زمانہ اسیری نے ایک طرف اس کی دل و دماغ پر صدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے تھے تو دوسری جانب اسی دوران میں اس نے علم و ہنر کا ایسا بحر بے کنار اپنے وجود میں سمیٹ لیا تھا جس کے حصول کے لئے بیرونی دنیا کے تعلیمی و تربیتی ادارے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اس نے آزاد عملی میدان میں قدم رکھا تو نت نئے دشمنوں سے اس کا سابقہ پڑا۔ جلد ہی اس پر منکشف ہوا کہ خالق نے اسے زمینی خداؤں کی سرکوبی کے لئے تخلیق کیا ہے۔ مقصد حیات واضح ہوا تو اس نے خود کو منشائے قدرت کے سامنے سرنگوں کردیا۔ اس کارزارِ فنا و بقا کی آبلہ پا جدوجہد میں ایک دلنشیں مہ جبیں بھی اس کی رفیق سفر تھی۔ مقامی مسائل کی پروردہ غم وغصے کی یہ بے قابو شوریدہ سر لہر دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی بساط پر یہود کے دیرینہ خواب قیام سلطنت داؤدی "تھرڈ ٹیمپل" کی راہ میں ایک رکاوٹ بن کر کھڑی ہوگئی۔
"داستان: "دھر
...پہلا حصہ
وقت اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ گہن زدہ رات اپنا نصف سفر مکمل کر چکی تھی۔ آسمان پر پورا چاند موجود تھا لیکن اس کی مدقوق، میلی چاندنی نے ماحول میں افسردگی بھر دی تھی۔ اس اداس اور ماتمی فضا میں، شہر کے مضافات میں واقع ایک عالی شان بنگلے کا بیرونی حصہ اس وقت بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ وہاں پر کسی ڈرامے کی شوٹنگ چل رہی تھی۔
دراصل یہ ایک ٹیلی فلم کے اختتامی مناظر تھے۔ ہیرو اور ولن کے درمیان خونیں معرکہ جاری تھا۔ اس ٹیلی فلم کے تین سین بنگلے کے اندرونی حصے میں ریکارڈ کئے گئے تھے....اب یہ آخری مرحلہ تھا۔ فلم کے ہیرو اور ولن نے ایک دوسرے کی درگت بناتے ہوئے بند چوبی دروازے کو تھوڑ کر بنگلے سے باہر نکل آنا تھا۔ ڈائریکٹر کی آواز کو کرداروں تک پہنچانے کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا۔ٹرائی پوڈ پر رکھا ہوا کینن فائیو ڈی مارک فور اپنی آنکھ کھولنے کی لئے پوری طرح تیار تھا۔ بتیس میگا پکسل، وائڈ اینگل لینس کا حامل یہ ایک فل فریم ڈیجیٹل ڈی ایس ایل آر کیمرا تھا۔ ڈائریکٹر نے فریم اوکے کر دیا تھا۔ اس کے "کیو" کہتے ہی شاٹ شروع ہو جانا تھا۔ ڈائریکٹر بخاری نے نے تنقیدی نگاہ سے لوکیشن کا جائزہ لیا۔
یہ ایک نائٹ سین تھا لہٰذا وہاں کا ماحول مختلف اقسام کی جدید لائٹس سے خارج ہونے والی روشنی میں نہا گیا تھا۔ اسپاٹ لائٹس کے طور پر پورٹ ایبل ڈیڈو کا استعمال کیا گیا تھا۔ بیک گراؤنڈ کو اجاگر کرنے کے لئے ایچ ایم آئی لائٹس موجود تھیں۔ علاؤہ ازیں چہروں کو نمایا کرنے کے لئے کینو فلو فیس لائٹس بھی آن تھیں۔ مائیک آپریٹرز اپنے بوم اٹھائے ہوشیار باش کھڑے تھے۔ اس بنگلے کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے بھی ذھن میں یہ خیال نہیں آتا تھا کہ آج چاند گرہن تھا۔ مارک فور اگرچہ شارپ وڈیو اور کرسٹل آڈیو کیمرا تھا لیکن کھلی فضا کے پیش نظر ڈائریکٹر نے بوم آپریٹرز کو بھی ارینج کر رکھا تھا تا کہ اس سین میں کسی تشنگی کا امکان باقی نہ رہے۔
حیرت و تجسس کی تہہ میں چھپی اس داستان کے باقی واقعات اگلے قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں